LIVE
Loading Breaking News...

سلووینیا میں اسرائیلی سفارت خانہ کھلنے پر ہنگامہ آرائی اور احتجاج

News Image
سلووینیا میں اسرائیل کے پہلے سفارت خانے کے افتتاح کے بعد دارالحکومت لیوبلیانا میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ قوم پرست وزیراعظم یانیز جانسا کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر ملک میں شدید سیاسی بحران اور مواخذے کی تحریک شروع ہو گئی ہے۔
سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں اس وقت شدید احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے جب ملک میں اسرائیل کے پہلے سفارت خانے کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس اقدام نے ملک بھر میں سیاسی ہلچل مچا دی ہے اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طور پر اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب سلووینیا کے قوم پرست وزیراعظم یانیز جانسا نے اسرائیل کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو از سر نو بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم کے اس اقدام کو ملک کے اندر اور باہر انتہائی متنازعہ نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھے گی اور سلووینیا کی روایتی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچے گا، جس پر اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی شدید تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ حالات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم یانیز جانسا کے خلاف پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک جمع کرا دی۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ وزیراعظم نے قومی مفادات کے برعکس فیصلے کیے ہیں جو ملک کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں بھی احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش ہیں اور حکومت پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس سفارت خانے کے افتتاح اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران سلووینیا کی موجودہ حکومت کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے خلاف مواخذے کی تحریک پر بحث کے دوران سیاسی چپقلش میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سڑکوں پر احتجاج کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے۔