World
تیونس: فلوٹیلا کارکنان کی قید اور بھوک ہڑتال کی تازہ صورتحال
تیونس میں عالمی سمود فلوٹیلا کے منتظمین سے منسلک مالیاتی تحقیقات کے سلسلے میں زیر حراست چار کارکنوں کی جیل میں بھوک ہڑتال کے باعث حالت تشویشناک ہو گئی ہے۔ یہ تمام افراد رواں سال مارچ سے سلاخوں کے پیچھے ہیں اور حکام کی جانب سے ان کی رہائی کے حوالے سے تاحال کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔
تیونس میں بین الاقوامی سمود فلوٹیلا کے منتظمین سے جڑے مالیاتی تحقیقات کے معاملے میں زیر حراست چار کارکنوں کی حالت اس وقت مزید تشویشناک ہو گئی جب ان میں سے ایک بھوک ہڑتالی کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ یہ چاروں کارکن رواں سال کے آغاز یعنی مارچ کے مہینے سے تیونس کی ایک جیل میں قید کاٹ رہے ہیں اور ان پر فلوٹیلا کے مالی معاملات کے حوالے سے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے اہل خانہ نے ان کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، طویل قید اور قانونی کارروائی میں تاخیر کے خلاف ان کارکنوں نے جیل کے اندر ہی بھوک ہڑتال شروع کر دی تھی، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی حالت تیزی سے گر رہی ہے۔ دوسری جانب، تیونسی حکام کی طرف سے اس معاملے میں تاحال کوئی نرمی یا فوری رہائی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی انسانی حقوق کے کارکنان اور سول سوسائٹی کے ارکان تیونس کی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ان قیدیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرے اور ان کے منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنائے۔ اس صورتحال نے ملک میں قانونی اور انسانی حقوق کے مسائل پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ فلوٹیلا کے حامی اپنے ساتھیوں کی فوری رہائی کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔