Politics
جان فیٹر مین کی ریپبلکن کنونشن میں ویڈیو لنک کے ذریعے آمد
پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین نے ریپبلکن کنونشن میں ویڈیو کے ذریعے سرپرائز شرکت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ انتہا پسندی اور سوشلزم کو مسترد کرتے ہیں۔
امریکہ کی ریاست پنسلوانیا سے تعلق رکھنے والے معروف ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹر مین نے ایک حیرت انگیز قدم اٹھاتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں ویڈیو کے ذریعے شرکت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے معاملے پر اپنی ہی جماعت کے اندرونی حلقوں سے اختلافات کا شکار رہنے والے جان فیٹر مین نے اس پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا یہ اقدام امریکی سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کا موضوع بن گیا ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے اراکین اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔
کنونشن سے اپنے ویڈیو خطاب کے دوران سینیٹر جان فیٹر مین نے واضح لفظوں میں اعلان کیا کہ وہ سیاسی انتہا پسندی اور سوشلزم کے نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی مفاد کو شخصی یا پارٹی نظریات سے بالاتر رکھنا چاہیے اور ایسے تمام نظریات کی مخالفت کی جانی چاہیے جو معاشرے میں تفریق اور پولرائزیشن کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ان اصولوں پر قائم رہیں گے چاہے اس کے لیے انہیں اپنی ہی جماعت کی قیادت یا تنقید کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
واضح رہے کہ جان فیٹر مین اسرائیل کے اسرائیل نواز مؤقف کی وجہ سے پہلے ہی اپنی پارٹی کے ترقی پسند اور بائیں بازو کے دھڑوں کے ساتھ تناؤ کا شکار رہے ہیں۔ غزہ تنازع اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کے بیانات نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ریپبلکن کنونشن میں ان کی یہ ویڈیو اپیئرنس اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ اپنی سیاسی ترجیحات میں روایتی پارٹی لائن سے ہٹ کر آزادانہ فیصلے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جان فیٹر مین کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں بڑی جماعتیں آئندہ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ جہاں ایک طرف ریپبلکن پارٹی کے رہنما ان کے اس مؤقف کو سراہ رہے ہیں، وہیں ڈیموکریٹک حلقوں میں اس پر تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ سینیٹر جان فیٹر مین کا یہ سیاسی پینترا ان کے مستقبل کے کیریئر اور ان کی پارٹی کے ساتھ تعلقات پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے۔