LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں امریکہ ایران جنگ کے حل پر زور

News Image
وزیرِ اعظم شہباز شریف رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے جہاں وہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کریں گے۔ اقوام متحدہ کا یہ اجلاس بین الاقوامی سفارت کاری اور خلیجی خطے کی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف رواں ماہ کے آخر میں نیویارک کا دورہ کریں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس سے خطاب کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کے اس دورے کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ خلیجی تنازع اور خطے میں امن و امان کی صورتحال اس سال کے اعلیٰ سطحی مباحثوں کا اہم ترین حصہ بننے کی توقع ہے، جس پر عالمی رہنماؤں کی توجہ مرکوز رہے گی۔ اقوام متحدہ کے اس اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے جبکہ بنگلہ دیش کے خلیل الرحمٰن نے جنرل اسمبلی کی صدارت سنبھال لی ہے۔ شیڈول کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف پچیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جہاں وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کریں گے۔ اس کے علاوہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹ؛رمپ بائیس ستمبر کو افتتاحی دن خطاب کریں گے، اور اسی روز وزیراعظم ایک استقبالیہ تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی نیویارک آمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہو سکا ہے، کیونکہ تہران کے مطابق واشنگتن کی جانب سے ایرانی وفد پر بعض غیر قانونی سفری شرائط عائد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا خطاب چوبیس ستمبر کو متوقع ہے، جس سے اس کانفرنس کا سیاسی تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کے اثرات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی پڑ رہے ہیں، جہاں تہران پر پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین کے پینل کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر ووٹنگ متوقع ہے۔ روس اور چین اس نگرانی کے نظام کی مخالفت کر رہے ہیں، جبکہ مغربی ممالک اس کے حق میں ہیں۔ اس تنازع کی جڑیں دو ہزار پندرہ کے جوہری معاہدے اور اس کے بعد لگائی جانے والی عالمی پابندیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے تمام الزامات کو مسترد کر چکا ہے، لیکن اس سفارتی ڈیڈ لاک نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا رکھی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی انتہائی حساس ہے کیونکہ خلیجی خطے میں جغرافیائی قربت کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشی اور سکیورٹی مفادات بھی وابستہ ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی نیویارک جائے گا، اور وہیں پر مختلف ممالک کے سربراہان سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کی جائیں گی۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی مؤقف رہا ہے کہ تمام تنازعات کو طویل عسکری محاذ آرائی کی بجائے پرامن مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وزیرِ اعظم کا یہ دورہ پاکستان کے پرامن تشخص کو اجاگر کرنے اور خطے کو بڑے بحران سے بچانے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔