World
روسی دورے کے بعد امریکی ایلچیوں کی جنگ بندی کی تجاویز، زیلنسکی کا بیان
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو کے دورے کے بعد امریکی ایلچیوں نے جنگ کے خاتمے سے متعلق اہم اور مثبت تجاویز پیش کی ہیں۔ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی دارالحکومت ماسکو کا دورہ کرنے والے امریکی ایلچی اپنے ساتھ یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے چند انتہائی 'قابلِ قدر تجاویز' لے کر آئے ہیں۔ صدر زیلنسکی کے مطابق اس پیشرفت سے دونوں ممالک کے درمیان جاری طویل اور تباہ کن تنازع کے خاتمے کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں اور عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں یوکرین کی مضبوط ہوتی ہوئی عسکری اور مذاکراتی پوزیشن پر بھی کھل کر بحث کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ماسکو میں امریکہ کے خصوصی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کی ہے جس میں یوکرین کے جنگی حالات اور ممکنہ امن مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں دونوں فریقین کے مابین رابطوں کو بحال رکھنے اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ روس کی جانب سے یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی یہ بات چیت جلد از جلد دوبارہ باضابطہ طور پر شروع ہو جائے گی تاکہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کی طرف بڑھا جا سکے۔
امریکہ کا یہ سفارتی قدم اس بات کا غماز ہے کہ واشنگٹن یوکرین تنازع کو مذاکرات کے میز پر حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز تر کر چکا ہے۔ امریکہ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ موجودہ جنگی صورتحال میں یوکرین کی عسکری قوت اور سفارتی پوزیشن پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مذاکرات کی میز پر اس کا پلڑا بھاری رہ سکتا ہے۔ یوکرین اور روس کے درمیان ان رابطوں کو عالمی امن کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے فریقین کو طویل اور صبر آزما مذاکرات کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔