LIVE
Loading Breaking News...

انتروپک کا محقق مصنوعی ذہانت کے خطرات پر مستعفی

News Image
مصنوعی ذہانت کے ادارے انتروپک کے ایک اعلیٰ محقق نے اے آئی کمپنیوں کے خطرناک رویے کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ محقق کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی ترقی کی دوڑ میں دنیا اور انسانیت کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والی معروف کمپنی انتروپک کے ایک محقق نے انتہائی سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے محقق کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی دوڑ میں مصروف کمپنیاں انسانیت کی زندگیوں کے ساتھ خطرناک جوا کھیل رہی ہیں، جو کہ مستقبل قریب میں دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ان سسٹمز کو بروقت کنٹرول نہ کیا گیا تو انسانی بقا کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور ضابطہ بندی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ قانون سازوں اور ماہرین نے اے آئی لیبز کے طرزِ عمل پر شدید تنقید کی ہے اور اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کی تیاری میں حفاظتی اصولوں کو سب سے مقدم رکھا جائے۔ محقق کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس دہائی کے آخر تک انسانیت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اگر غیر ذمہ دارانہ انداز میں تحقیق جاری رکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی انڈسٹری کو اپنے احتساب کے لیے سخت قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچا جا سکے۔