LIVE
Loading Breaking News...

امریکی انتخابات: ریپبلکنز کی جیت پر شہریوں کو 5 ہزار ڈالر ملنے کا اعلان

News Image
امریکی صدر نے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کی صورت میں ہر بالغ امریکی کو پانچ ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی لائحہ عمل یا فنڈز کے حصول کا ذریعہ ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے ایک پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی اہم اور پرکشش اعلان کیا ہے کہ اگر آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو ملک کے ہر بالغ شہری کو پانچ ہزار ڈالر کی نقد رقم دی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور اسے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مالی اعلانات انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کے حوالے سے کئی قسم کے سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ تاہم، اپنے اس خطاب کے دوران امریکی صدر نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ اس庞بڑے مالیاتی منصوبے پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے گا اور اس کے لیے درکار بھاری فنڈز کہاں سے حاصل ہوں گے۔ اتنی بڑی رقم کی تقسیم کے لیے قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ اور معاشی اثرات کے بارے میں بھی تاحال کوئی باضابطہ دستاویز یا حکومتی منصوبہ سامنے نہیں آ سکا۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے منصوبوں کے لیے کانگریس کی منظوری اور پیچیدہ بجٹ سازی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جو کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین نے اس اعلان کو محض ایک سیاسی شعبدہ بازی قرار دیا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف ووٹ بٹورنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے غیرحقیقی اور مبہم اعلانات سے معیشت کو فائدہ پہنچنے کے بجائے طویل مدتی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے۔ عوام میں بھی اس اعلان کے حوالے سے جہاں خوشی کی لہر دوڑی ہے، وہیں اس بات پر شک کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا یہ وعدہ عملی جامہ پہن بھی سکے گا یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ ریپبلکن پارٹی اس منصوبے کو اپنی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ بناتی ہے یا نہیں اور عوام اس پر کس قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ دریں اثنا، سیاسی تجزیہ کار اس بیان کے طویل مدتی اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ پالیسی ووٹرز کے رجحانات کو تبدیل کرنے میں کتنی کامیاب ثابت ہوتی ہے۔