LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا پانچ ہزار ڈالر انتخابی وعدہ اور اس کی قانونی حیثیت

News Image
امریکی صدر نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی جیت پر ہر امریکی شہری کو پانچ ہزار ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی و قانونی حلقوں میں اس اعلان کی قانونی حیثیت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک انتہائی پرکشش اور متنازع انتخابی وعدہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو ملک کے ہر شہری کو پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈز کے مساوی یعنی پانچ ہزار امریکی ڈالر نقد دیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس بات پر طویل بحث شروع ہو چکی ہے کہ آیا اس طرح کا مالی وعدہ ملکی قوانین کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مالی وعدے اکثر سیاسی مہم جوئی کا حصہ ہوتے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے طویل اور پیچیدہ قانونی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے تاکہ ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں مضبوط پوزیشن حاصل ہو سکے۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اعلانات سے معیشت پر دباؤ پڑ سکتا ہے اور افراط زر میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام عام شہریوں کی مالی حالت کو بہتر بنانے اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ عام عوام اور ووٹرز میں اس پیشکش پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں ایک طرف لوگ اس نقد رقم کے حصول میں دلچسپی لے رہے ہیں وہیں دوسری طرف اس کے معاشی نتائج پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ وعدہ محض انتخابی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے یا اس پر عملی اقدامات بھی شروع کیے جاتے ہیں۔