World
آر این ایل آئی رضاکار سکیورٹی کا جائزہ، آن لائن حملوں کا معاملہ
اتوار کے روز انگلش چینل میں تارکین وطن کو بچانے کے عمل میں حصہ لینے والے آر این ایل آئی کے رضاکاروں کو آن لائن تنقید اور حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد ادارے نے اپنے رضاکاروں کی سکیورٹی اور آن لائن حفاظت کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن یعنی آر این ایل آئی نے اپنے رضاکاروں کی سکیورٹی کا ازسرنو جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب اتوار کے روز اس ادارے کے رضاکاروں نے انگلش چینل میں سمندر کے راستے خطرناک سفر کرنے والے افراد کی جان بچانے کے لیے ایک ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔ اس امدادی کارروائی کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر رضاکاروں کو شدید تنقید اور ہدف بنایا گیا، جس پر ادارے نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادارے کے ترجمان کے مطابق، رضاکار بغیر کسی تفریق کے سمندر میں ڈوبنے والے ہر انسان کی جان بچانے کے لیے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالتے ہیں اور یہ ان کا انسانی اور پیشہ ورانہ فریضہ ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں آن لائن پلیٹ فارمز پر رضاکاروں کے خلاف تضحیک آمیز رویے اور دھمکی آمیز پیغامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ادارے کا ماننا ہے کہ جو لوگ انسانی ہمدردی کے تحت رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنانا انتظامیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، آر این ایل آئی کی اعلیٰ قیادت نے سکیورٹی پروٹوکولز کو سخت کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ رضاکاروں کی ڈیجیٹل اور جسمانی حفاظت کو ہر ممکن طریقے سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ادارے نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ رضاکاروں کے خلاف اس قسم کی منفی مہمات سے گریز کریں اور ان کی خدمات کو سراہیں۔