LIVE
Loading Breaking News...

بیڈنچ کا ہاؤسنگ بینی فٹ کٹس پر دفاعی اخراجات سے متعلق اہم بیان

News Image
برطانوی سیاست میں کنزرویٹو پارٹی کے اس مؤقف پر بحث جاری ہے کہ ہاؤسنگ بینی فٹ بل میں چار ارب پاؤنڈ کی کٹوتی کی جاسکتی ہے۔ پارٹی کی رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اقدامات سے لوگوں کے بے گھر ہونے کا خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔
برطانوی سیاست میں ایک بار پھر فلاحی اخراجات اور دفاعی بجٹ کے درمیان توازن پر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ ملک کے دفاعی اخراجات میں اضافے کے لیے ہاؤسنگ بینی فٹ بل سے چار ارب پاؤنڈ تک کی رقم کم کی جا سکتی ہے۔ اس مجوزہ پالیسی کے بعد سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ناقدین کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کٹوتی کے نتیجے میں غریب اور نادار طبقات کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا اور ملک میں بے گھر افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، اس تمام تنقید کے جواب میں کنزرویٹو رہنما کیمی بیڈنچ نے ان الزامات اور خدشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ بینی فٹ کے بل میں مجوزہ کٹوتیوں سے عام شہریوں کے بے گھر ہونے کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ فنڈز کی یہ منتقلی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہایت ناگزیر ہے، اور حکومت کو اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ ملک کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے بغیر اس کے کہ کسی غریب شہری کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے۔ اس معاملے پر حزب اختلاف اور سماجی فلاحی تنظیموں کی طرف سے بھی شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ فلاحی اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاشی صورتحال میں پہلے ہی کرایوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے اور ہاؤسنگ بینی فٹ میں کمی براہ راست کم آمدنی والے خاندانوں کو سڑکوں پر لا سکتی ہے۔ ماہرین اقتصادیات بھی اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا دفاعی بجٹ کو پورا کرنے کے لیے فلاحی مدات میں کٹوتی کرنا ایک درست معاشی اور سیاسی فیصلہ ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس تجویز پر مزید گرما گرم مباحث متوقع ہیں۔