LIVE
Loading Breaking News...

عالمی جوہری ادارے کا ایران پر عدم تعاون کا الزام اور آئندہ کے خدشات

News Image
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے ایران پر اہم جوہری تنصیبات تک رسائی نہ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے وہاں سیکیورٹی کے خطرات لاحق ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے حالیہ دنوں میں تہران حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے ایران کو 'عدم تعاون' کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ جوہری نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے اس کے انسپکٹرز کو ایران کے اہم جوہری مقامات تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے، جس کی وجہ سے ملک کے جوہری پروگرام کی نگرانی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ ایجنسی کا ماننا ہے کہ اس قسم کی رکاوٹیں بین الاقوامی معاہدوں اور سلامتی کے اصولوں کے منافی ہیں، جن سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی حکام نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور بیرونی خطرات کی وجہ سے معائنہ کاروں کو فوراً رسائی دینا ممکن نہیں ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مسلسل حملوں اور دھمکیوں کے پیش نظر جوہری تنصیبات کے ارد گرد کا ماحول انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور جب تک سیکیورٹی کے مناسب انتظامات اور حالات سازگار نہیں ہوتے، بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے حفاظتی خدشات برقرار رہیں گے۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر ایک بار پھر سفارتی بحران کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے جلد مذاکرات کے ذریعے اس تعطل کو ختم نہ کیا تو اقوام متحدہ کی سطح پر ایران پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑیں گے۔ عالمی برادری دونوں اطراف سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہی ہے تاکہ دنیا ایک نئے جوہری بحران سے بچ سکے۔