Politics
بنجمن نیتن یاہو کا سیاسی رویہ اور مظلومیت کا بیانیہ
اسرائیلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ایک بار پھر شکایت، الزام تراشی اور مظلومیت کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی پالیسیوں نے خطے میں تباہی پھیلائی ہے مگر وہ خود کو متاثرہ ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
اسرائیل میں آنے والے قومی انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنی پرانی سیاسی پلے بک کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی مہم میں مسلسل شکایت، الزام تراشی اور خود کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوششیں نمایاں ہیں۔ نیتن یاہو پر یہ الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں سخت فوجی پالیسیوں کی نگرانی کی ہے جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی المیے جنم لے چکے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا کرنے کے باوجود، نیتن یاہو اندرونی سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے اکثر ایسے بیانیے بناتے ہیں جن میں ریاست اور ان کی ذات کو خطرات میں گھرا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی دراصل ان کی سیاسی بقا کی جنگ کا حصہ ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے ووٹرز کو متحد کرنے اور مخالفین کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انتخابی میدان میں اترنے سے پہلے اس قسم کے ہتھکنڈے اپنانا ان کے سیاسی کیریئر کا ایک پرانا اور آزمودہ طریقہ رہا ہے۔
دوسری جانب، دنیا بھر میں ان کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں اور ناقدین کا ماننا ہے کہ وہ حقائق کو مسخ کر کے بین الاقوامی قانون اور انصاف کی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ وہ خود کسی سازش یا خطرے کا شکار ہیں، ان کے سیاسی حریفوں کی طرف سے سختی سے مسترد کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں اسرائیلی معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور آنے والے انتخابات کا نتیجہ خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔