World
روس اور یوکرین جنگ: آرکٹک میں گیس پلانٹس پر حملے اور ہلاکتیں
روس کے تازہ ترین فضائی حملوں میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری طرف یوکرین نے روس کے آرکٹک خطے میں گیس پلانٹس کو نشانہ بناتے ہوئے اپنی تاریخ کے سب سے گہرے فضائی حملوں میں سے ایک کیا۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح کشیدگی میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے جب یوکرین نے روسی سرزمین کے اندر گہرائی میں واقع اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یوکرین نے روس کے دور دراز آرکٹک خطے میں واقع قدرتی گیس کے پلانٹس پر ڈونر اور میزائلوں کے ذریعے حملہ کیا ہے، جو کیف کی طرف سے اب تک کے سب سے گہرے اور دور رس حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یوکرین کی جانب سے جنگ کو روسی سرزمین کے اندر تک لے جانے کی اس حکمت عملی سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہ راست خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
دوسری جانب روسی افواج کی جانب سے بھی جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ روسی بمباری کے نتیجے میں یوکرین کے مختلف علاقوں میں کم از کم سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں کے مطابق حملوں میں رہائشی علاقوں اور شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس تازہ پیش رفت سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک اب براہ راست ایک دوسرے کے اہم ترین صنعتی اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کی طرف سے آرکٹک جیسے حساس اور دور دراز خطے میں حملہ کرنا اس بات کا غماز ہے کہ کیف اپنی عسکری صلاحیتوں کو وسعت دے رہا ہے اور روس کو اس کی اپنی سرزمین پر دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔ دوسری جانب روس کی جانب سے بھی شہری آبادی اور تنصیبات پر حملوں میں تیزی لائے جانے سے انسانی بحران کے مزید گہرے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔