World
مکہ دفاعی معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، توسیع زیر غور نہیں: دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ مکمل طور پر ایک دفاعی نوعیت کا اقدام ہے۔ اس معاہدے میں فی الحال کسی بھی طرح کی توسیع یا وسعت کا کوئی ارادہ زیر غور نہیں ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس میں فی الحال کسی قسم کی توسیع یا وسعت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی سکیورٹی صورتحال اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے اس اتحاد کے حوالے سے مختلف تجزیے پیش کیے جا رہے تھے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے اور اس کو کسی بھی جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب، میڈیا میں زیر گردش ان اطلاعات کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے جن میں حوثی حملوں کے تناظر میں کسی فوجی ردعمل پر غور کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے دائرہ کار کو فی الحال وسیع کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی اس میں کسی نئے ملک کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بات چیت شروع کی گئی ہے۔ پاکستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی کے تحت تمام دوست ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کا خواہاں ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ یہ دفاعی معاہدہ خطے کے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کا مقصد کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے کے خلاف مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔