Business
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 105 ڈالر فی بیرل ہو گئیں
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور بحیرہ ہرمز میں حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو شدید تشویش لاحق ہے اور بانڈز کی پیداوار میں بھی تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تیل کی فی بیرل قیمت 105 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحیرہ ہرمز کے قریب بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکی خام تیل کی قیمت بھی سو ڈالر سے اوپر نکل گئی ہے جو کہ گزشتہ چند ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور ایران کے ساتھ طویل کشیدگی کے خدشات کی وجہ سے توانائی کے عالمی تاجروں اور سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ بحیرہ ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خطرات کے باعث مارکیٹ میں امیدیں دم توڑ رہی ہیں کہ بحری ٹریفک جلد بحال ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ برینٹ خام تیل بھی سو ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بانڈز کی پیداوار میں بھی زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق مہنگائی میں اضافے اور ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے دنیا بھر کی معیشتوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا، جس سے مرکزی بینکوں کی مانیٹری پالیسیوں پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔
حالیہ تجارتی سیشنز میں مارکیٹ کا رجحان مکمل طور پر سیاسی اور جغرافیائی کشیدگی کے زیر اثر ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں حالات مزید بگڑتے ہیں اور سپلائی کے راستے طویل عرصے تک متاثر رہتے ہیں، تو معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، جس سے عالمی منڈی میں کساد بازاری کے خطرات بھی سر اٹھا سکتے ہیں۔