AI
مصنوعی ذہانت کے خطرات، ماہرین کا اے آئی کی رفتار سست کرنے کا مطالبہ
مصنوعی ذہانت کے معروف اداروں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے محققین نے انسانیت کے لیے ممکنہ خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے اے آئی کی ترقی کی رفتار کو فوری طور پر سست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک محقق کے استعفیٰ اور خدشات کے بعد دنیا بھر کے قانون سازوں نے بھی ان کمپنیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیز رفتار ترقی پر ایک بار پھر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جب دنیا کی صف اول کی اے آئی کمپنیوں، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے کئی مزید محققین بھی اس ٹیکنالوجی کی ترقی کو سست کرنے کے مطالبات میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں انسانیت کی بقا کو داؤ پر لگا رہی ہیں اور بغیر سوچے سمجھے خطرناک حد تک ترقی کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں۔ یہ مطالبات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب اینتھروپک کے ایک سینئر محقق نے اپنے عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا کہ یہ لیبارٹریز انسانی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اس دہائی کے آخر تک غیر قابو شدہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انسانیت کو شدید ترین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ انسانی نسل کے خاتمے کا امکان بھی دس فیصد سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس اچانک پیش رفت نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور دنیا بھر کے قانون ساز اداروں نے بھی ان اے آئی کمپنیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ تجارتی فوائد کے حصول کے لیے عوامی تحفظ اور اخلاقی حدود کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ حکومتیں اس شعبے میں مداخلت کریں اور نئے قواعد و ضوابط نافذ کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچا جا سکے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی کی ترقی کو سست کرنے سے محققین کو اس کے حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے اور اس کے ممکنہ منفی اثرات کا احاطہ کرنے کے لیے مناسب وقت مل سکے گا، بصورت دیگر یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے اپنے کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔