Business
پاکستان میں نئے پنشن قوانین اور بینکوں کا کردار ختم
حکومت کی جانب سے پنشن کی ادائیگی کے نئے قوانین متعارف کرا دیے گئے ہیں جن کے تحت کمرشل بینکوں کا انتظامی کردار ختم کر دیا گیا ہے۔ اب بزرگ شہریوں کو پنشن کے حصول کے لیے بینکوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے کیونکہ تصدیق کا عمل نادرا کے ذریعے ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔
حکومت پاکستان کی جانب سے پنشن کی ادائیگی کے طریقہ کار میں ایک بڑی اور انقلابی اصلاحات کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت پنشن کے نظام سے کمرشل بینکوں کا انتظامی کردار مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے نفاذ کے بعد اب لاکھوں بزرگ اور ضعیف پنشنرز کو ماہانہ پنشن کی وصولی کے لیے درپیش مشکلات سے نجات مل جائے گی اور انہیں بار بار بینکوں کے چکر کاٹنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کا بنیادی مقصد پنشن کی تقسیم کے عمل کو شفاف، آسان اور جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔
نئے طریقہ کار کے تحت اب پنشنرز کو اپنی 'حیاتیاتی تصدیق' یا 'پروف آف لائف' کے لیے بینکوں میں ذاتی طور پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس تمام عمل کو اب نادرا (NADRA) کے سپرد کر دیا گیا ہے جو جدید ڈیجیٹل اور بائیو میٹرک تصدیق کے نظام کے ذریعے پنشنرز کی موجودگی کی تصدیق کرے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف بزرگ شہریوں کے قیمتی وقت اور توانائی کی بچت ہوگی بلکہ طویل قطاروں میں لگنے کی پریشانی سے بھی ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے گا۔
معاشی ماہرین نے حکومت کے اس قدم کو سراہتے ہوئے اسے ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ماضی میں پنشنرز کو بالخصوص ریٹائرمنٹ کے بعد زندہ ہونے کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس میں طویل انتظامات اور کاغذی کارروائی شامل ہوتی تھی۔ اب نادرا کے اس آن لائن اور خودکار نظام کے ذریعے یہ تمام رکاوٹیں دور ہو چکی ہیں اور پنشن براہ راست بغیر کسی اضافی کاغذی کارروائی کے متعلقہ افراد تک پہنچ سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اصلاحاتی پیکج کا مقصد ملک کے بزرگ شہریوں کو باوقار اور آسان طریقے سے سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ملک بھر میں اس نئے نظام پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ نادرا کے دفاتر اور اس کے پلیٹ فارمز پر بائیو میٹرک تصدیق کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس تبدیلی سے کرپشن اور بدعوانی کے دروازے بھی بند ہوں گے اور پنشن کے فنڈز کی ترسیل میں مزید شفافیت آئے گی۔