Politics
گوہر خان کا بیان: نئے صوبے گورننس بہتری کا واحد حل نہیں
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ محض نئے صوبے تشکیل دینا ہی ملک میں گورننس کو بہتر بنانے کا واحد حل نہیں ہے۔ سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی امور پر بحث کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر گوہر نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ملک میں انتظامی امور اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے صرف نئے صوبے بنانا ہی واحد حل یا راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے شفافیت اور درست پالیسیاں نافذ کرنا زیادہ اہم ہے۔ حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی بحث نے ایک بار پھر زور پکڑا ہے جس پر مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب اس معاملے پر دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں اور دیگر شخصیات نے وفاقی وزراء کے بیانات پر کڑی تنقید کی ہے اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کو اس وقت شدید معاشی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ صرف صوبائی تقسیم کی بات کرنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان وسیع تر قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔
سندھ اسمبلی اور دیگر ایوانوں میں بھی انتظامی امور، صوبائی خود مختاری اور ملکی نظم و نسق سے متعلق قراردادیں اور بحثیں سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے حقیقی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ گورننس کی بہتری کے لیے نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی اور کرپشن کا خاتمے جیسے اقدامات نئے صوبے بنانے سے کہیں زیادہ اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ طویل عرصے سے پاکستان کی سیاست کا حصہ رہا ہے، تاہم اس پر سنجیدہ آئینی اور سیاسی مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ ملک کے لیے فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ذاتی یا پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں اور گورننس کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔