LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائی کورٹ میں افغان طلباء کی بے دخلی کے خلاف درخواست دائر

News Image
پاکستان میں افغان میڈیکل طلباء کی واپسی اور بے دخلی کے احکامات کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی گئی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے اپنے دفاع میں مؤقف اپنایا ہے کہ طبی تعلیم کے حصول پر کوئی قومی امتیاز نہیں رکھا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اس ہدایت نامے کے خلاف ایک اہم درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں افغان طلباء کی جبری واپسی اور ملک بدری کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اس قانونی چارہ جوئی کے بعد ملکی سطح پر ایک بار پھر افغان طلباء کے تعلیمی مستقبل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بحث شروع ہو گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم افغان طلباء کے ساتھ یہ امتیازی سلوک نہ صرف ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے ان کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بھی پاکستان میں موجود افغان میڈیکل کے طالب علموں کی متوقع جلاوطنی اور بے دخلی کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بالخصوص طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی تعلیم پہلے ہی انتہائی کٹھن حالات میں جاری ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں تاکہ کسی بھی طالب علم کا تعلیمی کیریئر داؤ پر نہ لگے۔ ادھر پی ایم ڈی سی نے اپنے دفاع میں واضح کیا ہے کہ طبی تعلیم کے دروازے بند کرنے یا کسی بھی قسم کی قومیت کی بنیاد پر پابندی لگانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ افغان طلباء کے کوائف کا جائزہ لینے اور ان کے ویزوں کی قانونی حیثیت کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جن طلباء کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے قانونی اور درست ویزے موجود ہیں، وہ بدستور یہاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گے اور انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود کئی افغان طلباء، خاص طور پر خواتین، شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں کہ اگر انہیں اچانک واپس جانا پڑا تو ان کی ادھوری ڈگریاں اور پیشہ ورانہ خواب کیسے پورے ہوں گے۔