LIVE
Loading Breaking News...

ویلش فرسٹ منسٹر کی مغربی کنارے کی بستیوں پر برطانوی پابندیوں کی حمایت

News Image
ویلش فرسٹ منسٹر نے مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانوی حکومتی اقدامات کی پرزور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کو بین الاقوامی سطح پر اور کئی عرب و مسلم ممالک کی طرف سے بھی سراہا گیا ہے۔
ویلش فرسٹ منسٹر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانوی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر سنجیدہ غور و فکر جاری ہے اور دو ریاستی حل کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے غیر قانونی بستیوں سے درآمدات پر پابندی اور دیگر پابندیوں کے اعلانات نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس برطانوی اقدام کو پاکستان سمیت دنیا بھر کے کئی عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا ہے، جنہوں نے اسے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی بالادستی کی طرف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے اندر سے بھی کچھ حلقوں کی طرف سے اس اقدام کو مثبت قرار دیا گیا ہے، جہاں بعض اہم شخصیات کا ماننا ہے کہ یہ امن کی جانب واپسی اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کو روکنے کے لیے ایک اچھا آغاز ہے۔ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں بھی دو ریاستی حل کی حمایت اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ ضروری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی پالیسی میں یہ تبدیلی آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارت کاری اور مشرق وسطیٰ کے امن عمل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ویلش فرسٹ منسٹر کا اس حوالے سے مثبت موقف نہ صرف برطانوی سیاست میں اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ کے اندرونی انتظامی یونٹس بھی عالمی انسانی حقوق کے معاملات میں وفاقی حکومت کے ساتھ ہ ہم آہنگ ہیں۔