Business
اگست میں ہول سیل مہنگائی بڑھ گئی، توانائی کی قیمتیں محرک
امریکہ میں اگست کے مہینے کے دوران ہول سیل قیمتوں کے انڈیکس میں صفر اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے جس نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا۔
امریکہ میں اگست کے دوران ہول سیل مہنگائی میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے جس کی بنیادی وجہ توانائی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہے۔ اقتصادی رپورٹس کے مطابق پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) میں اگست کے مہینے میں توقعات کے مطابق صفر اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے پیداواری لاگت کو متاثر کیا ہے، جس کے براہ راست اثرات ہول سیل مارکیٹ پر مرتب ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بنیادی پروڈیوسر پرائس انڈیکس، جس میں خوراک اور توانائی جیسے متغیر شعبے شامل نہیں ہوتے، اس میں صفر اعشاریہ دو فیصد کا اعتدال پسند اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ میں مختلف معاشی ردعمل سامنے آئے ہیں اور سونے کی اسپاٹ قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں قیمتیں فی اونس چار ہزار تین سو چالیس ڈالر تک نیچے آ گئی ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ مہنگائی کے یہ اعداد و شمار مرکزی بینک کے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ توانائی کے شعبے میں جاری چیلنجز کی وجہ سے پیداواری لاگت قابو میں لانا ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، جو کہ مجموعی معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے۔ کاروبار سے وابستہ افراد آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی اس لہر کو مانیٹر کر رہے ہیں۔