World
لندن میں ایران کی خفیہ ایجنسی کی مدد کے الزام میں دو افراد گرفتار
برطانوی پولیس نے لندن سے دو افراد کو ایران کی انٹیلی جنس سروس کی مبینہ مدد کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں رواں سال یہود اور ایرانی برادریوں کے خلاف ہونے والے واقعات سے متعلق نہیں ہیں۔
برطانوی دارالحکومت لندن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک کارروائی کے دوران دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی انٹیلی جنس سروس کی مبینہ طور پر مدد کی تھی۔ پولیس حکام کی جانب سے اس معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس سازش کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان افراد کے رابطے کس حد تک فعال تھے۔
اس حوالے سے برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں انتہائی اہم معلومات کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہیں۔ تاہم پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ تازہ گرفتاریاں رواں سال کے اوائل میں لندن میں یہود اور ایرانی برادریوں سے جڑے ہوئے پچھلے پرتشدد یا مشکوک واقعات کے ساتھ براہ راست منسلک نہیں ہیں۔ حکام کا ماننا ہے کہ یہ ایک الگ اور نیا معاملہ ہے جس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
برطانیہ میں انٹیلی جنس سروسز کے مبینہ روابط اور بیرونی مداخلت کے خدشات کے پیش نظر سیکیورٹی ادارے پہلے ہی کافی الرٹ ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف حصوں میں ایسے عناصر کے خلاف سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں جو مبینہ طور پر غیر ملکی ریاستوں کے لیے جاسوسی یا تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تازہ واقعے کے بعد برطانوی حکومت غیر ملکی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کر سکتی ہے۔
گرفتار کیے جانے والے دونوں افراد سے اس وقت نامعلوم مقام پر تفتیش کی جا رہی ہے اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جہاں ان پر باقاعدہ الزامات عائد کیے جائیں گے۔ برطانوی حکام نے قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے اندر کسی بھی غیر ملکی ریاست کی غیر قانونی سرگرمیوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔