Business
مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل، گیس اور قرضوں کے اخراجات میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ تنازع کے فوری حل نہ ہونے کے خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث قرض لینے کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے معاشی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے جلد حل ہونے کی امیدیں ماند پڑنے کے بعد عالمی معاشی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس سیکیورٹی بحران کے براہ راست اثرات توانائی کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں یک دم تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں اور تاجروں کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع طویل ہو سکتا ہے جس سے سپلائی چین شدید متاثر ہوگی۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں قرض لینے کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس صورتحال نے دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ میں پہلے ہی اضافہ ہو رہا تھا اور اب توانائی کے بحران نے اس میں مزید شدت پیدا کر دی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں ممالک اس نئی معاشی لہر سے متاثر ہو رہے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے جلد ختم نہ کیا گیا تو عالمی اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ مرکزی بینکوں کے لیے بھی شرح سود کے حوالے سے فیصلے کرنا مزید مشکل ہو جائے گا کیونکہ بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں افراط زر کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔