Technology
اے آئی تصاویر کا بڑھتا ہوا رجحان: گرافالو کے عکاس کا اظہارِ تشویش
مقبول کتاب گرافالو کے عکاس ایکسل شیفلر نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تصاویر تیار کرنے کے رجحان کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات مصنفہ ڈیم جولیا ڈونلڈسن کے ہمراہ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
معروف بچوں کی کتاب 'گرافالو' کے مصور اور عکاس ایکسل شیفلر نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تصاویر تیار کیے جانے والے بڑھتے ہوئے رجحان کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مشہور مصنفہ ڈیم جولیا ڈونلڈسن کے ہمراہ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ایکسل شیفلر کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی اس تیز رفتار ترقی سے روایتی فن اور فنکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انٹرویو کے دوران مصنفہ ڈیم جولیا ڈونلڈسن نے اپنی نئی کتاب کا ایک دلچسپ اقتباس بھی پڑھ کر سنایا، جس نے ناظرین اور قارئین کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ دونوں فنکاروں نے مل کر بچوں کے ادب میں اپنی تخلیقات کے ذریعے دنیا بھر میں ایک خاص مقام بنایا ہے، اور ان کی یہ نئی کتاب بھی روایتی کہانی کاری کا ایک بہترین نمونہ سمجھی جا رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز جس تیزی سے ڈیجیٹل آرٹ اور عکاسی کے شعبے میں داخل ہوئے ہیں، اس نے روایتی فنکاروں کے روزگار اور تخلیقی حقوق پر ایک طویل بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین اور فنکار اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے واضح قوانین اور ضابطے بنائے جانے چاہئیں تاکہ انسانی فن اور محنت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ایکسل شیفلر جیسے قدآور فنکار کی جانب سے اس خدشے کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ تخلیقی صنعتیں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ منفی اثرات سے کتنی پریشان ہیں۔