LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں منشیات کا استعمال پچیس ہزار سال پرانا، نئی تحقیق

News Image
نئی سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ انڈونیشیا میں قدیم انسانی شکاری قبائل پچیس ہزار سال پہلے منشیات کے طور پر بیٹل نٹ کا استعمال کرتے تھے۔ اس اہم دریافت سے قدیم انسانوں کے طرزِ زندگی اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بارے میں تاریخی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔
سائنسی تحقیق کے مطابق انڈونیشیا میں قدیم انسانی شکاریوں کے حوالے سے ایک حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ماہرین نے پتا لگایا ہے کہ آج سے تقریباً پچیس ہزار سال قبل بھی انسان منشیات کا استعمال کیا کرتے تھے۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدیم دور میں انسانوں کی جانب سے بیٹل نٹ کو بطور منشیات استعمال کیا جاتا تھا، جو کہ انسانی تاریخ اور ثقافت میں نشہ آور اشیاء کے ابتدائی استعمال کی ایک اہم کڑی ہے۔ ماہرینِ آثار قدیمہ اور سائنسدانوں نے اس بات کا مشاہدہ کیا ہے کہ قدیم دور کے انسان بھی اپنے روزمرہ کے معمولات اور مزاج کو تبدیل کرنے یا مختلف روایات کے تحت اس قسم کے پودوں اور نٹس سے استفادہ کرتے تھے۔ تحقیق کے دوران ملنے والے شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیٹل نٹ چبانے کا یہ رجحان کوئی جدید ایجاد نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانے پتھر کے دور اور قدیم تہذیبوں میں پیوست ہیں۔ یہ نئی دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قدیم انسانوں کو اپنے اردگرد موجود پودوں اور ان کے کیمیائی اثرات یا خصوصیات کے بارے میں گہرا علم حاصل تھا، جو وہ اپنی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق استعمال کرتے تھے۔ سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کی تاریخی تحقیقات سے ہمیں قدیم انسانوں کی عادات، خوراک، اور ان کے طرزِ زندگی کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے، اور اس سے تاریخ کے کئی ان سلجھے پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ اس مطالعے نے دنیا بھر کے محققین کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے جو اس بات کا مزید جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس دور کے انسان اس کے علاوہ بھی دیگر پودوں کو نشے یا دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے یا نہیں۔