Politics
امریکی مردم شماری 2030: ٹرمپ کی پالیسی اور تارکین وطن
ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ مردم شماری میں غیر قانونی تارکین وطن اور گرین کارڈ نہ رکھنے والوں کو شامل نہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد انہیں 'حقیقی باشندے' نہ ماننا ہے جس کے امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر اور آئندہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2030 کی امریکی مردم شماری کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور متنازعہ منصوبہ زیر غور ہے۔ اس مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد غیر قانونی تارکین وطن اور ایسے تمام افراد کو جو باضابطہ گرین کارڈ کے حامل نہیں ہیں، ملک کی باقاعدہ مردم شماری سے خارج کرنا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان افراد کو امریکہ کے 'حقیقی باشندے' یا مستقل شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
امریکہ میں ہر دس سال بعد ہونے والی مردم شماری کی ملکی سیاست، کانگریس میں نشستوں کی تقسیم اور وفاقی فنڈنگ کے حصول میں انتہائی کلیدی حیثیت ہوتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر اس نئے منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تو اس سے نہ صرف اقبلیتوں اور تارکین وطن کی آبادی کے اعداد و شمار میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ اس کا براہ راست اثر ریاستوں کی نمائندگی پر بھی پڑے گا۔ جن ریاستوں میں تارکین وطن کی بڑی تعداد آباد ہے، وہاں وفاقی وسائل اور پارلیمانی نشستوں کا تناسب کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مردم شماری میں صرف قانون کے دائرے میں رہنے والے امریکی شہریوں اور مستقل رہائشیوں کا شمار ہونا چاہیے تاکہ ملکی وسائل کی تقسیم درست اور شفاف انداز میں کی جا سکے۔ ان کا اصرار ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو سرکاری اعداد و شمار کا حصہ بنانا آئینی اور قانونی اصولوں سے انحراف کے مترادف ہے، اور ملک کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ مردم شماری کے قوانین کو مزید سخت بنایا جائے۔
اس مجوزہ پالیسی کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عدالتوں میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ امریکی سیاست اور قانون سازی کا ایک انتہائی اہم اور تلخ موضوع بننے کا امکان ہے، جو ملکی سماجی اور سیاسی توازن کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔