Politics
ٹرمپ کا پانچ ہزار ڈالر نقد ادائیگی کا وعدہ اور امریکی معیشت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی کی کامیابی کی صورت میں شہریوں کو پانچ ہزار ڈالر کیش دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس تئیس سو ارب ڈالر کے بڑے وعدے سے امریکہ کے پہلے ہی تاریخ ساز چالیس ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے میں مزید نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سیاسی میدان میں بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ وسطی مدتی انتخابات میں ان کی جماعت یعنی ریپبلکن پارٹی کو کامیابی ملتی ہے تو وہ ملک کے اہل شہریوں کو پانچ ہزار ڈالر کی نقد ادائیگیاں کریں گے۔ اس نئے اعلان نے جہاں سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، وہیں معاشی ماہرین کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ آیا امریکی معیشت اس بھاری بھرکم بوجھ کو اٹھانے کی سکت رکھتی ہے یا نہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والی اس پبلسٹی اور مالیاتی وعدے کی مالیت تقریباً تئیس سو ارب ڈالر بنتی ہے۔ اگر یہ تجاویز عملی جامہ پہنتی ہیں تو اس سے امریکہ کے پہلے ہی اپنی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجود چالیس ٹریلین ڈالر کے قومی قرضے میں مزید تشویشناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔ امریکہ کا موجودہ مالیاتی نظام پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جس کی وجہ سے ایسے بڑے اقدامات کے دور رس منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی حریفوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے وعدے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا ایک حربہ ہیں جن کا حقیقت سے کوئی دور کا واسطے نہیں ہوتا۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے ملکی معیشت مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے اور افراط زر میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ عام امریکی شہری کے لیے مشکلات کا باعث بنے گا۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا اصرار ہے کہ یہ مالی امداد امریکی عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
آنے والے دنوں میں اس موضوع پر بحث مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ جیسے جیسے انتخابات قریب آئیں گے، معاشی پالیسیاں اور فنانسنگ کے معاملات ووٹرز کے سامنے مرکزی حیثیت اختیار کرتے جائیں گے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکی عوام اور قانون ساز اس تجویز کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور آیا اس نوعیت کے بڑے وعدے ملک کی معاشی سمت پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔