LIVE
Loading Breaking News...

ریان گیگز کا انکشاف: مانچسٹر یونائتد نے ایمباپے کو سائن کیوں نہیں کیا؟

News Image
مانچسٹر یونائتد کے سابق اسسٹنٹ کوچ ریان گیگز نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی ٹیم نے نوجوانی میں کالیان ایمباپے کی صلاحیتوں کو پرکھا تھا لیکن وہ انہیں اولڈ ٹریفورڈ لانے میں ناکام رہے۔ فرانسیسی اسکوٹ کی جانب سے ٹپ ملنے کے باوجود کلب نے اس وقت اس باصلاحیت کھلاڑی کو سائن کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
مانچسٹر یونائتد کے لیجنڈری کھلاڑی اور کلب کے سابق اسسٹنٹ کوچ ریان گیگز نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ مانچسٹر یونائتد کی انتظامیہ نے دنیا کے مایہ ناز فٹبالر کالیان ایمباپے کو ان کے کیریئر کے ابتدائی دنوں میں ہی اسکاؤٹ کر لیا تھا، لیکن وہ انہیں اپنے ساتھ جوڑنے میں ناکام رہی۔ ریان گیگز کے مطابق، یہ اس وقت کی بات ہے جب ایمباپے بہت کم عمر اور ایک ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی تھے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں سے فرانسیسی فٹبال حلقوں میں ہلچل مچا رکھی تھی۔ ایک فرانسیسی اسکوٹ کی خصوصی ٹپ پر یونائتد کے کوچنگ عملے نے اس ہونہار کھلاڑی کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا اور ان کی صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا گیا تھا۔ اس وقت مانچسٹر یونائتد کی کوچنگ ٹیم نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کرنے اور انہیں کلب کے مستقبل کے لیے تیار کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی تھی۔ ریان گیگز نے بتایا کہ انہیں فرانس سے ایک بااعتماد اسکوٹ کی جانب سے اطلاع ملی تھی کہ موناکو یا اس سطح کی اکیڈمیز میں ایک ایسا نابغہ روزگار نوجوان موجود ہے جو آنے والے وقت میں عالمی فٹبال کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ اس معلومات کی روشنی میں ریان گیگز نے ذاتی طور پر اس معاملے میں گہری دلچسپی لی اور ایمباپے کے کھیل کے انداز کو پرکھا۔ اس دور میں ایمباپے کی تیز رفتار ڈرِبلنگ، گول اسکور کرنے کی صلاحیت اور میدان پر شاندار ججمنٹ نے ہر دیکھنے والے کو متاثر کیا تھا، اور یونائتد کا عملہ بھی ان کی ان ہی صلاحیتوں کا قائل ہو گیا تھا۔ تاہم، تمام تر ابتدائی دلچسپی اور رابطوں کے باوجود مانچسٹر یونائتد اس وقت کالیان ایمباپے کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور کلب نے اس وقت اس موقع سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا، اس پر ریان گیگز نے مزید تفصیلی روشنی تو نہیں ڈالی، لیکن یہ حقیقت اب دنیا کے سامنے ہے کہ ریڈ ڈیولز نے ایک ایسے کھلاڑی کو کھو دیا جو آج فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا نام بن چکا ہے۔ ایمباپے نے بعد میں موناکو اور پھر پیرس سینٹ جرمین (পিএসজি) کی طرف سے کھیلتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور فرانس کو ورلڈ کپ جتوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ فٹبال کے تجزیہ کار اس انکشاف کو مانچسٹر یونائتد کی ٹرانسفر مارکیٹ کی تاریخ کی ایک بڑی غفلت یا موقع ضائع ہونے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ فٹبال کی دنیا میں اس طرح کے واقعات عام ہیں جہاں کلب نوجوان ٹیلنٹ کو بروقت پہچاننے کے باوجود انہیں حتمی شکل نہیں دے پاتے، لیکن ایمباپے جیسے کھلاڑی کا ہاتھ سے نکل جانا یقیناً مانچسٹر یونائتد کے شائقین کے لیے ایک افسوسناک بات ہے۔ آج جب کالیان ایمباپے دنیا بھر کے بہترین فارورڈز میں شمار ہوتے ہیں، تو ریان گیگز کا یہ بیان اس بات کی غاکی کرتا ہے کہ اولڈ ٹریفورڈ کے کوچز کو مستقبل کے ستاروں کی شناخت تو تھی لیکن وہ بروقت فیصلہ سازی سے قاصر رہے۔