World
اسرائیل برطانوی ارکان پارلیمنٹ، فلسطین کے حق میں آواز اور عالمی تنقید
اسرائیل کی جانب سے برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے داخلے پر پابندی نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دے دیا ہے۔ متاثرہ برطانوی رہنما کا کہنا ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت سے انہیں روک نہیں سکتے۔
برطانیہ کے معزز اراکین پارلیمنٹ کو اسرائیل میں داخلے سے روکنے کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ برطانوی رہنما نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے حکومتی اقدامات اور پابندیاں انہیں مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے سے ہرگز نہیں روک سکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل اپنی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کی بیرونی جانچ پڑتال اور تنقید سے بچنے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برطانوی سیاستدانوں کے داخلے پر پابندی کا یہ اقدام دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے عالمی مباحثوں میں بھی ایک نیا موڑ لے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے اسرائیل کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوتا جا رہا ہے جو کہ زمینی حقائق پر تنقید کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب برطانوی عوام اور سیاسی رہنما بھی اس معاملے پر اپنی حکومت سے سخت مؤقف اپنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ پارلیمانی اراکین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور فلسطین کے دیرینہ مسئلے پر آزادانہ مکالمہ جاری رکھا جا سکے۔