Pakistan
پاکستان اور مکہ دفاعی معاہدہ: حوثی حملوں پر فوجی جواب کی تردید
ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدہ نوعیت کے اعتبار سے مکمل طور پر دفاعی ہے۔ سعودی عرب پر حوثی حملوں کے تناظر میں اس معاہدے کے تحت کسی فوجی کارروائی یا توسیع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
اسلام آباد: پاکستان نے ان تمام خبروں اور قیاس آرائیوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حملوں کے پس منظر میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوجی ردعمل پر غور کیا جا رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دفاعی معاہدہ اپنی فطرت کے اعتبار سے خالصتاً دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اس کے دائرہ کار کو پھیلانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظرنامے کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں مختلف تبصرے کیے جا رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے کو لے کر خطے میں کئی طرح کے قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا، بالخصوص بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک کے تناظر میں سکیورٹی اتحادوں کے مستقبل پر بحث جاری تھی۔ تاہم، اسلام آباد کی طرف سے یہ پالیسی بیان اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان خطے میں کسی بھی ایسی عسکری کشیدگی کا حصہ بننے سے گریزاں ہے جو وسیع تر علاقائی امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کا قائل ہے، لیکن مکہ معاہدے کے حوالے سے میڈیا میں گردش کرنے والی خبریں حقائق پر مبنی نہیں۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان جاری کشیدگی خلیجی خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چالش رہی ہے، اور پاکستان اس تنازع میں سفارتی حل اور پرامن مذاکرات کی وکالت کرتا آیا ہے۔ اسلام آباد کا یہ تازہ مؤقف خطے کے دیگر ممالک کو بھی ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اپنی عسکری پالیسیوں اور دفاعی معاہدوں کے معاملے میں انتہائی محتاط اور اصول پسندانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ملک کے سکیورٹی اور خارجہ امور کے ماہرین نے بھی اس وضاحت کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے غیر ضروری سفارتی ابہام کا خاتمہ ہوتا ہے اور پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اجاگر ہوتی ہے۔