LIVE
Loading Breaking News...

افغان میڈیکل طلباء کے پی ایم ڈی سی احکامات کیخلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع

News Image
پاکستان میں زیر تعلیم تیرہ افغان میڈیکل طلباء نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے انخلا اور وطن واپسی کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درست ویزے کے حامل طلباء کو پاکستان میں اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔
لاہور: پاکستان کے مختلف میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم تیرہ افغان میڈیکل طلباء نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ انخلا اور وطن واپسی کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ اس قانونی چارہ جوئی کے بعد ملکی تعلیمی اور طبی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، کیونکہ اس معاملے پر پہلے ہی مختلف حلقوں کی جانب سے مخلوط ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ درخواست دائر کرنے والے طلباء کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان تمام طلباء کے پاس پاکستان کے قانونی اور درست ویزے موجود ہیں، لہذا انہیں زبردستی واپس بھیجنا ان کے بنیادی تعلیمی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ درست ویزا رکھنے والے طلباء اپنی تعلیم پاکستان میں ہی مکمل کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں اور اس طرح کے اچانک حکومتی فیصلوں سے ان کا مستقبل خطرے میں پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور متعلقہ اداروں بشمول کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) کی جانب سے پی ایم ڈی سی کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی پالیسیوں اور ضوابط کے تحت یہ احکامات جاری کیے گئے تھے، جن کا مقصد غیر ملکی طلباء کے کوٹے اور قانونی حیثیت کا از سر نو جائزہ لینا ہے۔ پاکستان کے اس فیصلے اور اس کے بعد سامنے آنے والی عدالت کارروائی پر بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، خاص طور پر افغان میڈیا جیسے کہ طلوع نیوز نے اس خبر کو نمایاں طور پر کور کیا ہے۔ اب یہ سارا معاملہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس ہے، اور قانونی ماہرین کی نظریں عدالت کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں جو ان تیرہ افغان طلباء کا تعلیمی مستقبل طے کرے گا۔