LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں ای بائیک اسکیم فیز ٹو کا آغاز، طلبا کے لیے شاندار موقع

News Image
وزیر اعلیٰ پنجاب نے طلبا کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ای بائیک اسکیم کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور خواتین طلبا کے لیے خصوصی لائسنسنگ کاؤنٹرز بھی بنائے گئے ہیں۔
لاہور: حکومت پنجاب نے طلبا کی نقل و حرکت کو آسان بنانے اور ماحول دوست سواری کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعلیٰ ای بائیک اسکیم کے دوسرے مرحلے (فیز ٹو) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے بھر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کو آسان اقساط پر موٹر سائیکلیں فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں تعلیمی اداروں تک آنے جانے میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکام کے مطابق اس اسکیم کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب رجسٹریشن کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب تک رجسٹریشن کی مجموعی تعداد چار لاکھ बتیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جو اس اسکیم کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نئے مرحلے کی افتتاحی تقریب کے دوران متعلقہ حکام نے بتایا کہ اس بار طلبا کی سہولت کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس (CTPL) نے صوبے بھر میں پانچ نئے سکوٹر ڈرائیونگ سکول قائم کیے ہیں تاکہ طلبا کو محفوظ ڈرائیونگ کی تربیت دی جا سکے۔ اس کے علاوہ خصوصی طور پر خواتین طالبات کے لیے الگ لائسنسنگ کاؤنٹرز بھی بنائے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی زحمت کے اپنے ڈرائیونگ لائسنس بنوا سکیں۔ حکومت کی جانب سے ایک ہی دن میں لائسنس کے حصول کی سہولت بھی متعارف کروائی گئی ہے جس سے ای بائیک حاصل کرنے والے طلبا فوری طور پر قانونی تقاضے پورے کر سکیں گے۔ اس منصوبے کے تحت حکومت پنجاب نے مجموعی طور پر ایک لاکھ پچیس ہزار الیکٹرک اور پٹرول بائیکس طلبا میں تقسیم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ الیکٹرک بائیکس کے استعمال سے نہ صرف طلباء کے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے بائیکس کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ حقدار طلبا کو بروقت یہ سواری فراہم کی جا سکے۔ والدین اور طلبا کی جانب سے حکومت کے اس قدم کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے ایک بہترین سہولت قرار دیا جا رہا ہے۔