LIVE
Loading Breaking News...

جسٹس ڈوگر نے چھٹیوں میں 381 مقدمات نمٹا دیئے

News Image
جسٹس ڈوگر نے عدالتی تعطیلات کے باقاعدہ دنوں کے دوران انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف پانچ دنوں میں 381 مقدمات کے فیصلے جاری کیے۔ اس اقدام سے زیر التواء مقدمات کے بوجھ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور قانونی حلقوں میں اسے سراہا جا رہا ہے۔
لاہور: عدالتی نظام میں کارکردگی کی ایک بہترین مثال قائم کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر نے عدالتی تعطیلات کے دوران محض پانچ دنوں میں 381 مقدمات نمٹا دیے۔ یہ کارنامہ اس وقت سامنے آیا جب عام طور پر عدالتوں میں چھٹیوں کا سماں ہوتا ہے اور معمول کے عدالتی امور سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔ جسٹس ڈوگر نے اس روایت کو توڑتے ہوئے سائلین کو انصاف کی جلد فراہمی کے لیے دن رات محنت کی اور ریکارڈ مقدمات کے فیصلے سنائے۔ قانونی ماہرین اور وکلاء نے جسٹس ڈوگر کے اس غیر معمولی اقدام کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف زیر التواء مقدمات کے طویل پہاڑ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بھی مزید مضبوط ہوتا ہے۔ پاکستان کے عدالتی نظام میں مقدمات کا طویل التواء ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں سائلین سالوں تک انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ اس تناظر میں پانچ دنوں کے قلیل عرصے میں تین سو سے زائد کیسز کا فیصل ہکيا جانا ایک تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالتوں میں مقدمات کے بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور انصاف کی تاخیر ظلم کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ جسٹس ڈوگر کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم مصمم اور فرض شناسی کا جذبہ ہو تو وسائل کی کمی اور تعطیلات کے باوجود نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ سائلین اور ان کے وکلاء نے اس فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر جج صاحبان بھی اس روایت پر عمل کرتے ہوئے زیر التواء مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کی کوشش کریں گے تاکہ عوام کو بروقت اور سستا انصاف میسر آ سکے۔