LIVE
Loading Breaking News...

آئی اے ای اے کی جانب سے ایران سلامتی کونسل کے حوالے

News Image
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ نے ایران کو جوہری عدم تعمیل کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ریفر کر دیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی سطح پر سفارتی کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے گورنرز بورڈ نے ایران کو اس کے جوہری پروگرام میں عدم تعمیل کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ریفر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور عالمی ایجنسی کے درمیان معائنہ کاروں کے داخلے اور حفاظتی کیمرے بند کرنے کے معاملات پر شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایجنسی کی جانب سے بارہا مطالبات کے باوجود تہران کی جانب سے تعاون نہ کرنے پر یہ سخت قدم اٹھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس قرارداد کی منظوری کے بعد عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے درمیان ایران کے خلاف ممکنہ پابندیوں یا اسنیپ بیک کے حوالے سے بحث شروع ہو چکی ہے۔ مغربی طاقتیں ایران کے بڑھتے ہوئے جوہری عزائم کو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ اس کا ایجنسی کے ساتھ تعاون پرامن مقاصد کے تحت جاری ہے اور تمام اقدامات ضابطے کے مطابق ہیں۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس معاملے کے جانے کے بعد ایران کے خلاف مزید سفارتی دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید بگاڑ آ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی بڑی کشیدگی کو روکا جا سکے اور مذاکرات کی راہیں کھلی رکھی جا سکیں۔