Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، برینٹ کروڈ 107 ڈالر فی بیرل ہوگیا
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ مئی کے بعد پہلی بار ہوا ہے کہ تیل کی قیمتیں اس بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں۔
عالمی منڈی میں توانائی کے بحران نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے جہاں خام تیل کی قیمتیں 107 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہیں۔ مئی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ تیل کی قیمتیں اس بلند ترین سطح پر پہنچی ہیں، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور نئے حملے بتائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات نے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی لائن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مارکیٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ توانائی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر ہونے والے حملوں نے بحری ٹریفک کی بحالی کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ اس اہم گزرگاہ پر خدشات کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ برینٹ کروڈ اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمتوں میں ہونے والے اس اچانک اضافے سے دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی اوپر چلی گئی ہیں، جس سے عام صارفین اور صنعتوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بانڈز کی پیداوار میں اچانک تیزی نے مالیاتی منڈیوں میں اضطراب پیدا کیا ہے جس نے تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگر مشرق وسطیٰ کا یہ بحران طویل ہوتا ہے تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں اور مہنگائی کی لہر میں اضافہ متوقع ہے۔ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ایندھن کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے اور معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔