World
برطانیہ: ہوم سیکرٹری کا مہاجرین مخالف مظاہروں سے سختی سے نمٹنے کا حکم
برطانیہ میں گزشتہ ہفتے دو مختلف مقامات پر مہاجرین کے خلاف مظاہرے منعقد ہوئے۔ ہوم سیکرٹری نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ قانونی اختیارات بروئے کار لائے۔
برطانیہ میں گزشتہ ہفتے کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں مہاجرین کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد ملکی سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈوور اور پورٹسماؤتھ کے علاقوں میں گزشتہ ہفتے کے آخر میں دو نمایاں مہاجرین مخالف مظاہرے منعقد کیے گئے تھے جن میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کے دوران سکیورٹی کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور امن و امان کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانوی حکومت نے انتہائی سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس صورتحال پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے برطانوی ہوم سیکرٹری نے پولیس فورس کو واضح اور دوٹوک ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے اپنے پاس موجود تمام ضروری اور قانونی اختیارات کا بلا جھجھک استعمال کریں۔ ہوم سیکرٹری کا کہنا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عام شہریوں کے جان و مال اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حالیہ برسوں میں برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں تارکین وطن کی آمد اور پناہ گزینوں کے مسائل پر سماجی اور سیاسی سطح پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ ڈوور اور پورٹسماؤتھ کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر اس حساس موضوع کو ملکی سطح پر مرکزِ نگاہ بنا دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کیا جائے گا لیکن پبلک آرڈر میں خلل ڈالنے، نفرت انگیز تقاریر کرنے یا تشدد کا راستہ اپنانے والوں کے ساتھ ہرگز نرمی نہیں برتی جائے گی۔
پولیس حکام نے بھی ان ہدایات کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور آنے والے دنوں میں ممکنہ مظاہروں کے پیش نظر اضافی نفری تعینات کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو ابتدائی مرحلے میں ہی کنٹرول کیا جا سکے۔