LIVE
Loading Breaking News...

ایسٹر رینٹزن کا سوئٹزرلینڈ جا کر خود مرنے کے فیصلے سے متعلق بڑا بیان

News Image
برطانوی براڈکاسٹر اور مہم چلانے والی ایسٹر رینٹزن نے کہا ہے کہ وہ کینسر کی تشخیص کے بعد اب اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ وہ سوئٹزرلینڈ کا سفر کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس وقت کا انتخاب کرنے سے چوک گئیں جب زندگی ناقابلِ برداشت ہونے سے پہلے وہ یہ قدم اٹھا سکتی تھیں۔
برطانیہ کی معروف براڈکاسٹر اور سماجی مہم چلانے والی ایسٹر رینٹزن نے اپنے حالیہ بیان میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اب اتنی کمزور ہو چکی ہیں کہ وہ اسسٹڈ ڈائنگ کے لیے سوئٹزرلینڈ کا سفر نہیں کر سکتیں۔ ایسٹر رینٹزن اس سے قبل اس بات پر کھل کر بات کرتی رہی ہیں کہ وہ اپنی طویل بیماری کے دوران کس طرح پرسکون موت کا انتخاب کرنا چاہتی تھیں، تاہم اب ان کی جسمانی حالت اس قابل نہیں رہی کہ وہ یہ طویل سفر طے کر سکیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں نے تسلیم کیا کہ جب کینسر کا مرض ان کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ برداشت نہیں ہوا تھا، تو وہ اس وقت موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں۔ اب ان کی بڑھتی ہوئی کمزوری اور صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے انہیں اس سفر پر جانے سے روک دیا ہے کیونکہ اس طویل پرواز اور سفری مراحل کو برداشت کرنے کی ان میں سکت باقی نہیں رہی ہے۔ ایسٹر رینٹزن کی جانب سے اس فیصلے کے بعد برطانیہ میں ایک بار پھر اسسٹڈ ڈائنگ یعنی مرنے کے حق سے متعلق قوانین پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ سماجی حلقوں اور ان کے چاہنے والوں کی جانب سے ان کی موجودہ صحت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر ان سنگین مسائل کو اجاگر کیا ہے جن کا سامنا وہ مریض کرتے ہیں جو اسسٹڈ ڈائنگ کے قوانین سے باہر رہنے والے ممالک میں اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی کرب میں گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسٹر رینٹزن کا یہ بیان ان تمام لوگوں کے لیے ایک بڑا پیغام ہے جو شدید بیماری کے باوجود پروقار طریقے سے دنیا چھوڑنے کے خواہشمند ہیں لیکن قانونی اور جسمانی رکاوٹوں کی وجہ سے اس حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔