World
یمن میں حوثی باغیوں کا مخا بندرگاہ پر قبضہ، عالمی بحری راستے متاثر
یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی گروپ نے بحیرہ احمر کی اہم بندرگاہ مخا پر مبینہ طور پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس پیشرفت سے حوثی باغیوں کو باب المندب آب و گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے میں مزید مدد ملے گی۔
یمن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں واقع ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک بندرگاہ مخا پر اپنا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس پیشرفت کو یمن کے جاری تنازعے میں ایک بڑا موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مخا بندرگاہ پر حوثیوں کے قبضے سے اس گروپ کو بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے انتہائی حساس سمجھے جانے والے باب المندب کے آبی راستے کے مزید قریب جانے کا موقع مل گیا ہے۔ یہ بحری راستہ عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہاں کسی بھی فریق کا غلبہ عالمی تجارت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مخا کی یہ بندرگاہ ماضی میں بھی تنازعات کا مرکز رہی ہے اور اس کے گرنے سے یمن کی دیگر قوتوں کی دفاعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، علاقائی اور بین الاقوامی برادری نے بحیرہ احمر کے اس اہم سمندری گزرگاہ پر سیکیورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس نئی پیشرفت کے بعد بین الاقوامی سطح پر بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے، کیونکہ اس راستے سے روزانہ کی بنیاد پر تیل اور دیگر تجارتی سامان بردار جہاز گزرتے ہیں۔ حوثی گروپ کی طرف سے اس قبضے کو ان کی عسکری اور تزویراتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جب کہ یمن میں امن کے خواہاں حلقے اس بحران کے مزید پھیلنے کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس علاقے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے بین الاقوامی سمندری تجارت کی سیکیورٹی کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔