World
گراؤنڈ زیرو کے لاپتہ متاثرین کی باقیات کی شناخت کا عزم
نیویارک کے حکام نائن الیون کے حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک ہزار سے زائد افراد کی باقیات کی شناخت کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود یہ تلاش اور شناخت کا مشکل سفر تاحال جاری ہے۔
نیویارک میں نائن الیون کے تباہ کن حملوں کو طویل عرصہ بیت چکا ہے مگر گراؤنڈ زیرو پر جاں بحق ہونے والے ہزاروں افراد کے لواحقین کے لیے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ حکام اور فرانزک ماہرین اس عزم کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ کسی بھی متاثرہ شخص کو بھلایا نہ جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے کہ لاپتہ افراد کی باقیات کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے کی بھی شناخت کی جا سکے۔ اس مشکل ترین مشن میں اب جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ ڈی این اے تجزیے کے ذریعے ان متاثرین کے ناموں کا تعین کیا جا سکے جن کا سراغ آج تک نہیں مل سکا۔ حملوں کے بعد سے لے کر اب تک نیویارک کے متعلقہ ادارے مسلسل اس عزم پر کاربند ہیں کہ لواحقین کو ایک حتمی تسلی فراہم کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈی این اے نکالنے اور اس کی جانچ کے عمل میں انتہائی پیچیدہ اور نایاب سائنسی طریقوں کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ باقیات انتہائی خراب حالت میں پہنچ چکی ہیں۔ اس کے باوجود، فرانزک لیبارٹریز میں کام کرنے والے سائنسدان دن رات اس کام میں مصروف ہیں تاکہ تاریخ کے اس سیاہ ترین دن کے حوالے سے نامعلوم باقیات کے معجزاتی طور پر پردے چاک کیے جا سکیں۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کا مقصد صرف سائنسی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ان خاندانوں کے دلوں کو سکون پہنچانا ہے جنہوں نے اس سانحے میں اپنے پیاروں کو کھویا اور جنہیں آج تک اپنے پیاروں کی آخری نشانی بھی نصیب نہیں ہو سکی۔ حکام کا عزم ہے کہ جب تک ممکن ہو سکے گا، یہ کوششیں جاری رہیں گی تاکہ متاثرین کے لواحقین کو یہ معلوم ہو سکے کہ ان کے پیاروں کے باقیات کو باعزت طریقے سے سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔