LIVE
Loading Breaking News...

چارلی کرک کی برسی: قدامت پسند طلباء تحریک کو درپیش چیلنجز

News Image
چارلی کرک کے قتل کو ایک سال مکمل ہونے پر قدامت پسند نوجوانوں کی تحریک کو شدید دھچکا لگا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ اس اہم رہنما کی کمی کی وجہ سے ان کی تحریک کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
چارلی کرک کے المناک قتل کو ایک سال بیت چکا ہے اور اس واقعے نے قدامت پسند نوجوانوں کی تحریک کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ طلباء اور تنظیم کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس دوران تحریک کو جو خلا محسوس ہوا ہے، اسے پر کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ چارلی کرک نہ صرف ایک نمایاں شخصیت تھے بلکہ وہ امریکی نوجوانوں میں قدامت پسند نظریات کے سب سے بڑے ترجمان بھی مانے جاتے تھے۔ ان کی اچانک موت نے اس پوری تحریک کی رفتار کو سست کر دیا ہے اور کارکنان آج بھی ایک مؤثر رہنما کی تلاش میں ہیں۔ تحریک سے وابستہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ چارلی کرک کی شخصیت میں جو مقناطیسیت اور جوش تھا، وہ عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتا۔ وہ جامعات میں جا کر کھل کر بحث کرتے تھے اور قدامت پسند نظریات کا دفاع کرتے تھے۔ ان کے جانے کے بعد سے جامعات کے اندر قدامت پسند حلقوں کو اپنی آواز بلند کرنے میں نمایاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے طلباء کا ماننا ہے کہ اگرچہ ان کی یاد میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، لیکن وہ متحرک قیادت اب نظر نہیں آتی جو چارلی کرک کی زندگی میں تحریک کا خاصہ تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، چارلی کرک کی رحلت کے بعد قدامت پسند تحریک کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کی سطح پر جو توانائی اور جوش و خروش ان کی موجودگی میں پایا جاتا تھا، اس میں اب کمی واقع ہوئی ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا قدامت پسند طلباء اس بڑے خلا کو پر کر پاتے ہیں یا یہ تحریک طویل عرصے تک اس کمی کا شکار رہے گی۔