LIVE
Loading Breaking News...

موسمیاتی خطرات اور تعلیم: یونیسف کی سال 2025 کی رپورٹ

News Image
یونیسف کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں موسمیاتی خطرات کی وجہ سے دنیا بھر میں 171 ملین سے زائد طلباء کی تعلیم میں خلل پڑا۔ اس بحران کے نتیجے میں بچیاں اور طالبات سب سے زیادہ غیر متناسب طور پر متاثر ہوئیں۔
اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسف کی جانب سے جاری کردہ ایک تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران دنیا بھر میں موسمیاتی خطرات اور ماحولیاتی بحرانوں کی وجہ سے ہر دس میں سے ایک طالب علم کی تعلیم کا سلسلہ منقطع یا شدید متاثر ہوا۔ اس عالمی بحران کے نتیجے میں مجموعی طور پر ایک کروڑ اکہتر ملین یعنی 171 ملین سے زائد طلباء متاثر ہوئے ہیں، جنہیں شدید موسمی حالات، سیلاب، خشک سالی اور دیگر ماحولیاتی آفات کی وجہ سے اسکولوں کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف تعلیمی نظام کو درہم برہم کیا ہے بلکہ بچوں کے مستقبل اور سیکھنے کے عمل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بحران کا شکار ہونے والوں میں بچیاں اور طالبات غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جب اسکول بند ہوئے یا تباہ ہوئے، تو اس کا سب سے زیادہ منفی اثر لڑکیوں کی تعلیم اور ان کی حفاظتی و سماجی بہبود پر پڑا، جس سے صنفی تعلیمی خلیج مزید وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین تعلیم اور موسمیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب براہ راست بچوں کے بنیادی حقوق بالخصوص تعلیم کے حق پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اور کم وسائل والے خطے اس سے سب سے زیادہ دوچار ہیں جہاں تعلیمی بنیادی ڈھانچہ موسمیاتی آفات کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ یونیسف نے عالمی رہنماؤں اور حکومتوں سے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی نظام کو موسمیاتی لحاظ سے محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں بچوں کے تعلیمی نقصان کو روکا جا سکے۔