LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ سے ممدانی تک: نیویارک کی سیاست میں نیا حیرت انگیز رجحان

News Image
ایگزٹ پولز کے مطابق نو فیصد ٹرمپ ووٹرز نے نظریاتی اختلافات کے باوجود نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی حمایت کی۔ یہ غیر متوقع سیاسی رجحان آئندہ مڈٹرم انتخابات کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
امریکی سیاست میں حالیہ دنوں ایک انتہائی دلچسپ اور غیر متوقع سیاسی رجحان سامنے آیا ہے جس نے سیاسی تجزیہ کاروں کو بھی حیران کر دیا ہے۔ دستیاب ایگزٹ پولز اور انتخابی اعداد و شمار سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے ووٹرز میں سے تقریباً نو فیصد نے نیویارک شہر کے میئر زہران ممدانی کے حق میں بھی ووٹ ڈالا۔ بظاہر دونوں رہنماؤں کے درمیان زمین آسمان کا نظریاتی فرق پایا جاتا ہے، اس کے باوجود ووٹرز کی طرف سے اس قسم کی کراس اوور سپورٹ نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ زہران ممدانی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی وابستگیاں اور نظریات ایک دوسرے کے بالکل برعکس ہیں۔ جہاں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ دائیں بازو کی قدامت پسند سیاست اور سخت گیر امیگریشن پالیسیوں کے حامی ہیں، وہیں دوسری طرف زہران ممدانی بائیں بازو کے خیالات اور ترقی پسند ایجنڈے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ایک ہی حلقے یا ووٹر بیس کے اندر دونوں شخصیات کے لیے بیک وقت پسندیدگی پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ووٹرز اب روایتی سیاسی لکیروں سے ہٹ کر ان امیدواروں کا انتخاب کر رہے ہیں جو انہیں مقامی سطح پر مسائل کا حل فراہم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس انہونی سیاسی تبدیلی کا اثر آنے والے مڈٹرم انتخابات پر گہرا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں اب اس بات کا بغور جائزہ لے رہی ہیں کہ کس طرح ووٹرز اپنی ترجیحات کو نظریاتی وابستگی کی بجائے عملی ضرورتوں کی بنیاد پر تبدیل کر رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان ملک کے دیگر حصوں تک پھیلتا ہے تو روایتی انتخابی حکمت عملیوں کو یکسر بدلنا پڑے گا۔ امیدواروں کے لیے اب صرف پارٹی لائن پر انحصار کرنا ناکافی ہوگا بلکہ انہیں ایسے متضاد ووٹرز کو بھی اپنے حق میں کرنا ہوگا جو روایتی خانوں میں فٹ نہیں بیٹھتے۔ مجموعی طور پر، ٹرمپ سے ممدانی کی طرف منتقلی کا یہ رجحان امریکی جمہوریت کے اندر بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں اور ووٹرز کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے مڈٹرم انتخابات میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں اس نئے رجحان کو سمجھ پاتی ہیں اور اپنے انتخابی منشور میں ایسی تبدیلیاں لاتی ہیں جو ان متضاد ووٹرز کو مطمئن کر سکیں۔ نیویارک کا یہ واقعہ آنے والے دنوں میں قومی سطح پر ایک نئے سیاسی مباحثے کی بنیاد بن سکتا ہے۔