LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارہ: اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں ایک ہفتے میں 100 فلسطینی گرفتار

News Image
قابض اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک ہفتے میں کم از کم ایک سو فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں خواتین، بچے، صحافی اور حالیہ قیدی تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی فورسز کے تشدد اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں تازہ ترین کارروائیوں کے دوران صرف ایک ہفتے کے اندر ایک سو سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فلسطین کی قیدیوں سے متعلق تنظیم 'پالیسی پریزنرز سوسائٹی' نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ قابض فوج کی جانب سے یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں گھر گھر چھاپوں اور پرتشدد کارروائیوں کے دوران کی گئیں۔ گرفتار ہونے والوں میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فورسز کی جانب سے جن افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں کم عمر بچے، میڈیا کے نمائندے یعنی صحافی اور وہ سابق فلسطینی قیدی بھی شامل ہیں جو حال ہی میں طے پانے والے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جیلوں سے رہا کیے گئے تھے۔ اس صیہونی اقدام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں بالخصوص ان لوگوں کو دوبارہ قید کیا گیا ہے جو حال ہی میں طویل صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹے تھے۔ مغربی کنارے میں آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں اور فوجی چھاپوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جس نے عام فلسطینیوں کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے قابض فورسز کے اس رویے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری طور پر ان جبری گرفتاریوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد خطے میں مزید خوف و ہراس پھیلانا اور فلسطینیوں کی آواز کو دبانا ہے۔ فلسطینی حکام اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ علاقوں میں جاری اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں۔ دوسری جانب، قیدیوں کی تنظیم نے عزم ظاہر کیا ہے کہ فلسطینی عوام ہر قسم کے ظلم و جبر کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور گرفتار ہونے والے تمام افراد کے حقوق کے لیے قانونی و سیاسی سطح پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔