Politics
امریکی سپریم کورٹ کا مسوری کانگریشنل میپ پر اہم فیصلہ
امریکی سپریم کورٹ نے مسوری ریاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ انتخابی نقشے پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاست کے ایک ریپبلکن عہدیدار کو عدالتی احکامات کی مبینہ توہین کا سامنا ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے مسوری ریاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ کانگریشنل میپ یعنی انتخابی حلقہ بندیوں کے نقشے پر عمل درآمد کو روک دیا ہے۔ اس اہم قانونی پیش رفت نے ریاست کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان کشمکش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسوری کے ایک ریپبلکن عہدیدار کو نچلی عدالت کے حکم عدولی کرنے پر توہین عدالت کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ قدم انتخابی عمل میں عدالتی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سے تیار کردہ اس نقشے کو سیاسی حلقوں میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، کیونکہ ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے اقلیتی ووٹرز کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اس فیصلے سے وفاقی عدالتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان جاری قانونی جنگ میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید قانونی چارہ جوئی کی جائے گی جو کہ ملک کے مجموعی انتخابی منظر نامے پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔