LIVE
Loading Breaking News...

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ میں شرح سود بڑھنے کا خدشہ

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کے بردار جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد امریکہ میں شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات بھی روشن ہو گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر شدید تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور قیمتیں بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ حالیہ اور اچانک اضافہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں خلیجی خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی سپلائی چین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اس طوفانی اضافے کے نتیجے میں عالمی سطح پر مہنگائی کے نئے طوفان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس معاشی دباؤ کے پیش نظر یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ شرح سود بڑھنے سے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور قرضوں کی لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی اور تیل کی ترسیل کے راستے بدستور خطرے کی زد میں رہے، تو توانائی کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ اس سے دنیا بھر کےممالک میں ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، جس سے عام صارف کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔