World
اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ شام کی سعودی عرب کی طرف سے مذمت
سعودی عرب اور کویت سمیت دیگر ممالک نے اسرائیلی وزیر اعظم کے مقبوضہ شامی علاقے کوہِ حرمون کے دورے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دمشق نے اس اقدام کو ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم کے مقبوضہ شامی علاقے کے دورے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور شامی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے جبل الشیخ یعنی کوہِ حرمون کے مقبوضہ شامی علاقے کا دورہ کیا تھا اور وہاں تعینات اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کی تھی۔ اس اشتعال انگیز دورے کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر اس کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس غیر قانونی داخلے کی پرزور مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب شام کی ارضی سالمیت اور اس کی خودمختاری کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور تمام بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری پر زور دیتا ہے۔
سعودی عرب کے علاوہ کویت سمیت دیگر عرب اور اسلامی ممالک نے بھی اسرائیلی اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ شامی دارالحکومت دمشق سے جاری ہونے والے بیانات میں اس دورے کو ملکی خودمختاری پر ایک دانستہ اور خطرناک حملہ قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں پہلے سے ہی جنگ اور تنازعات کا شکار خطے میں مزید بحران پیدا کر سکتی ہیں، جس سے بین الاقوامی امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔