LIVE
Loading Breaking News...

ایمل ولی کا جماعت اسلامی کے دھرنوں میں شرکت کا اعلان

News Image
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنوں میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ جماعت اسلامی نے حکومت کو پیٹرولیم لیوی واپس لینے کے لیے 10 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
اسلام آباد کی سیاسی فضا میں ہلچل اس وقت مزید تیز ہو گئی جب عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان نے جماعت اسلامی کی طرف سے دھرنوں اور احتجاجی تحریک میں شرکت کی باضابطہ دعوت قبول کر لیں۔ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اکھٹی ہو رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف سخت مؤقف اپنا رکھا ہے۔جماعت اسلامی نے حکومت کو واضح طور پر 10 ستمبر کی ڈیڈ لائن دی ہے کہ وہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر واپس لے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے اور حکومتی وفد نے اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے کے لیے مزید تین دن کی مہلت مانگی ہے، جس کی تصدیق جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے بھی کی ہے۔جماعت اسلامی نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو چھ مختلف تجاویز بھی پیش کی ہیں جن کا مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج میں شدت لائی جائے گی اور ملک بھر میں دھرنوں کا آغاز کر دیا جائے گا۔ ایمل ولی خان کی جانب سے اس تحریک میں شمولیت کے اعلان سے اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔