World
آبنائے ہرمز میں امریکی ٹینکرز پر حملے اور تیل کے دھبے
آبنائے ہرمز میں امریکی ٹینکرز پر حالیہ حملوں کے بعد سمندر میں تیل کے ممکنہ دھبے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باعث سمندری تجارت اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری شدید تناؤ کے دوران ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ٹینکرز پر ہونے والے حالیہ حملوں کے نتیجے میں سمندر میں تیل کے بڑے دھبے پھیلنے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ حملے اس وقت سامنے آئے جب خطے میں فوجی سرگرمیاں اور کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، حالیہ کارروائیوں میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک جہاز رانی پر سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات اور بحری امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹینکرز کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے تیل کا اخراج نہ صرف سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی تجارتی راستوں کو بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے کیونکہ دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔ دوسری جانب، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے خطے میں امریکی مفادات اور بحری جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائیوں کے اس توازن میں بین الاقوامی برادری شدید تشویش کا شکار ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا معاشی اور ماحولیاتی بحران بن سکتا ہے۔