World
مراکش کی اسپین کے سیوٹا بارڈر واقعے میں ملوث ہونے کی تردید
مراکش نے اسپین کے سرحدی علاقے سیوٹا میں ہزاروں تارکینِ وطن کے اچانک داخلے میں کسی بھی قسم کے سرکاری ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید سیاسی تناؤ اور ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
مراکش کی حکومت نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ اسپین کے خود مختار افریقی انکلیو سیوٹا میں تارکینِ وطن کے اچانک اور بڑے پیمانے پر داخلے کے پیچھے تھی۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ستر ہزار سے زائد تارکینِ وطن کی اس سرحدی علاقے میں آمد نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے، جس کے بعد اسپین اور مراکش کے درمیان سیاسی اور سفارتی سطح پر شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ صورتحال دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں تناؤ کا ایک نیا باب لے کر آئی ہے جہاں حکام اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس غیر معمولی لہر نے یورپی یونین کی سرحدی سیکیورٹی پالیسیوں پر بھی ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ دوسری جانب، مراکشی حکام کا اصرار ہے کہ انہوں نے بارڈر مینجمنٹ اور غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے ہمیشہ بھرپور تعاون کیا ہے اور اس بحران میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ تارکینِ وطن کو خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے بھی جاری ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور اس طرح کے واقعات کی مستقبل میں روک تھام کی جا سکے۔