LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں غیر ملکی کارکنان اور تارکین وطن کا مستقبل

News Image
جنوبی افریقہ میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ان حالات نے ملک میں مقیم غیر ملکی کارکنان کے مستقبل کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں ایک بار پھر تارکین وطن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں مقیم غیر ملکی کارکنان اور ان کے اہل خانہ میں گہرے خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان تازہ ترین احتجاجی مظاہروں نے ملک کی اندرونی سیاست اور معاشرتی صورتحال کو گرما دیا ہے، اور یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ غیر ملکی کارکنان رضاکارانہ طور پر یا حالات کے دباؤ میں آ کر جنوبی افریقہ چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ مقامی آبادی کا ایک طبقہ ملک کے معاشی مسائل اور بے روزگاری کا ذمہ دار غیر ملکیوں کو ٹھہراتا ہے، جو اس کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران جنوبی افریقہ میں معاشی مشکلات اور روزگار کے مواقع کی کمی کے باعث تارکین وطن مخالف جذبات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدور اور پروفیشنلز اب اس صورتحال کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ کاروباری حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے احتجاجی مظاہرے نہ صرف ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ملک کے وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئی واضح اور مستقل لائحہ عمل اختیار کرے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غیر ملکیوں کی بے دخلی یا ان کا خود بخود انخلا عمل میں آ سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کی معیشت میں زرعی، کان کنی اور تجارتی شعبوں میں غیر ملکی افرادی قوت کا بڑا اہم کردار رہا ہے، اور ان کی اچانک روانگی سے ملکی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ فی الحال، صورتحال انتہائی حساس ہے اور ہر ایک کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ جنوبی افریقہ کی انتظامیہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے۔